بیدر21 ڈسمبر(نامہ نگار)اللہ تعالیٰ جب کسی بندے سے محبت کرتاہے تو حضرت جبرائیل علیہ السلام کوحکم دیتاہے اور فرماتاہے اے جبرائیل میں فلاں بندے سے محبت کرتاہوں اور تم بھی اس سے محبت کرو، جب حضرت جبرائیل علیہ السلام اس بندے سے محبت کرتے ہیں تو آسمان والوں کو حضرت جبرائیل علیہ السلام آواز دیتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ اے آسمان والو اللہ تعالیٰ فلاں بندے سے محبت کرتاہے تم بھی اس سے محبت کرو، جب آسمان والے اس بندے سے محبت کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ زمین پر رہنے والون کے دلوں میں اس کے تعلق سے محبت پیدا کردیتاہے۔ ان خیالات کااظہار ممتاز پیر طریقت ڈاکٹر الحاج شاہ خلیفہ محمد ادریس احمد قادری صاحب سجادہ نشین درگاہ آستانہ قادریہ بگدل شریف میں منعقدہ مرکزی جلسہ بعنوان”عظمت اولیاء“ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں اللہ کے سوا کسی کو خلیل بناتا تو ابو بکر کو بناتا،رسول اللہ ﷺ نے فرمایاابو بکر کے مال نے مجھے سب سے زیادہ فائدہ پہنچایا۔آپ ہر مشکل میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہے۔ ہجرت میں جان کی بازی لگا دی۔ خلافت کے دوران فتنوں کا خاتمہ کیا۔ حضرت سیدنا ابو بکر صدیقؓ کی شان محض تاریخ کا موضوع نہیں بلکہ ایمان والوں کے لیے عملی نمونہ ہے۔ غار میں سانپ کا ڈسنا ہو یا ہر موقع پر رسول ﷺ کی تصدیق کی، آپؓ نے ثابت کیا کہ کامل ایمان کیا ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت صدیقِ اکبرؓ کی محبت، ان کے نقشِ قدم پر چلنے اور ان کی سچی غلامی نصیب فرمائے۔ شاہ خلیفہ محمد ادریس احمد قادری صاحب نے،کہا،کہ حضرتہ سیدہ بی بی فاطمہ الزہراء رضی اللہ تعالیٰ عنہا، خاتونِ جنت، نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ﷺ کی سب سے لاڈلی اور پیاری صاحبزادی ہیں۔ آپ کی ذاتِ اقدس قیامت تک آنے والی مسلمان عورتوں کے لیے اسوہ حسنہ ہے۔ آپ عبادت، زہد، صبر، قناعت، حیا، عفت، ایثار اور اطاعتِ رسول ﷺ کا کامل نمونہ تھیں۔کفار کی طرف سے حضور ﷺ کے اوپر اونٹ کی اوجھڑی ڈالنے پراس وقت ننھی فاطمہ رضی اللہ عنہا نے دوڑ کر اپنے والد کا دفاع کیا۔آپ نے ہجرت کے بعد مدینہ میں سادگی، عبادت اور خدمتِ دین کی زندگی گزاری۔ گھر میں فقر تھا مگر دل غنی تھا۔حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا نکاح حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے ہوا۔ انہوں نے،مریدین کو تلقین کرتے ہوئے کہا کہ،پانچوں وقت کی نمازوں کی پابندی کے ساتھ اہتمام کریں۔ شجرہ عالیہ قادریہ کے ورد کے بعد درس تصوف دیااوردعائے سلامتی فرمائی۔پروفیسر ڈاکٹرمولانا سید جہانگیر علی حیدراباد نے کہا کہ شاہ خلیفہ ڈاکٹر الحاج محمد ادریس احمد قادری بگدلی خانقاہی نظام کو بہترین انداز میں چلارہے ہیں اور تمام لوگوں کو لیکر چل رہے ہیں اور حضرت کی نگرانی میں دینی تعلیم کانظم بھی بہترین کیا گیا ہے اورشاندار پیمانے پر خانقاہی نظام چلا رہے ہیں جس میں ہر مذہب کے لوگ فائدہ اور فیض حاصل کررہے ہیں انہوں نے آستانہ قادریہ کے رضاکارانہ دینی خدمات کو سراہتے ہوئے خلیفہ شاہ ادریس احمد قادری بگدلی کو مبارکباد دی۔مولانا محمد عبدالحمید رحمانی چشتی نے، کہا کہ حضرت سیدنا غوث الاعظم سید نا عبد القادر جیلانی حسنی حسینی سید ہیں اور آپ کا شجرہ نسب چند واسطوں کے بعد حضرت سیدنا علی المرتضی سے جاملتا ہے۔ آپ امام الاولیاء ہیں اور تصوف کے سب سے بڑے سلسلے '' قادریہ کے بانی ہیں۔ اللہ تعالی نے آپ کو بہت کمال اور بزرگی عطا فرمائی ہے۔ آپ جامع العلوم تھے آپ کے چہرہ مبارک پر رعب و جلال اور بزرگی اس قدر نمایاں تھی کہ ظالم اور جابر لوگ بھی آپ کے چہرے کو دیکھتے تو ان پر خشوع و خضوع طاری ہو جاتا۔ آپ کے والد ابو صالح سید موسیٰ جنگی دوست بھی اولیاء اللہ میں شمار ہوتے ہیں۔ آپ کی والدہ ماجدہ سیدہ ام الخیر امتہ الجبار بڑی نیک خاتون تھیں۔ آپ کا پورا خاندان ہی ولایت کے مرتبے پر فائز ہے۔ آپ کے نانا، دادا، والد، والدہ، اور پھوپو' آپ کے صاحبزادگان سب اولیاء اللہ ہوئے اور یہ پورا خاندان کشف و کرامات کا حامل ہے۔ جہاں معصوم بچے اور ضعیف ہوتے ہیں وہاں اللہ کی رحمت برستی ہے۔ جن گھروں میں معصوم بچوں کو کھانا کھلایا جاتا ہے،ان گھروں میں رحمتوں کا خصوصی نزول ہوتا ہے۔ جوبندہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کثرت دروھ سلام کانذرآنہ پیش کرتاہے اسکو اپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار نصیف ہوتاہے۔مولانا محمد حمید رحمانی چشتی نے اولیاء کی سیریت پر زائد از ادھا گھنٹہ روشنی ڈالی ۔ مولانامحمد ندیم قادری اُستاد دارالعلوم قادریہ بگدل،نے اپنے پر اثر خطاب میں کہاکہ رسول اللہ ﷺؐ نے فرمایاکہ اپنی اولاد کو دو طرح کاعلم سکھاؤ ایک قرآن مجید کی تعلیم اور دوسرے میرے اہلبیت کی محبت ان کے دلوں میں ڈالو۔ جو علم سے زندہ ہوگا وہ کبھی نہیں مرے گا۔حضور ﷺ نے فرمایا علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ حضرت کے پیر و مر شید کا ہی فیضان ہیکہ آج یہاں آستا نہ قادریہ بگدل میں ہزاروں کا مجمع جمع ہے اور لو گ فیض حاصل کر رہے ہیں۔ آستانہ قادریہ میں حضرت ہمیشہ یہی درس دیتے ہیں کے پانچ وقتو ں کی نمازوں کی پا بندی کر یں۔ انہوں نے،کہاکہ دار العلوم قادریہ میں زیر تعلیم 400سے زائد طلباء و طالبات کو سرپرست اعلیٰ ڈاکٹر الحاج خلیفہ شاہ ادریس احمد قادری کی نگرانی میں بہترین سہولتیں حاصل ہیں۔جیسے مفت تعلیم، کتب،کاپیاں، بیاگ،پین،وقلم اور دیگر سہولتیں حاصل ہیں۔دارالعلوم قادریہ میں نہ صرف بگدل بلکہ اطراف واکناف کے طلباء و طالبات زیرتعلیم ہیں۔انہوں نے بیشمار اولیاء اللہ کی تعلیمات پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔شہ نشین پر محمد لئیق احمد قادری بگدلی اور دیگر موجود تھے۔ جلسہ کی کارروائی کا آغازحافظ محمد شاہنوازنلدرگ کی قرائت کلام پاک سے ہوا۔ممتاز نعت خواں نے حمد ونعت اور منقبت کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ختم قادریہ، شجرے عالیہ قادریہ کا ورد،تلاوت ےٰسین شریف، محفل قُل کا بھی اہتمام کیا گیا تھا۔ سجادہ نشین صاحب کی دعائے سلامتی و فاتحہ تقسیم تبرکات کے بعد یہ روحانی تقریب تکمیل پذیر ہوئی۔۔۔
Post Views: 10