ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

مذہبی منافرت اور مقدس شخصیات کی توہین کے خلاف سخت قانون سازی وقت کی اہم ضرورتتلنگانہ حکومت کے مجوزہ ریزولوشن کا خیر مقدم — مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی

ریاستِ تلنگانہ میں کرسمس کی تقریب کے موقع پر وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی کی جانب سے مذہبی منافرت پھیلانے اور تمام مذاہب کی مقدس شخصیات کے خلاف توہین آمیز، اشتعال انگیز اور نازیبا بیانات پر سخت کارروائی کے لیے اسمبلی میں ریزولوشن لانے کے اعلان کا مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی ( ڈائریکٹر ریاض العلوم و ریاض اسلامک اسکول، فلک نما) نے خیر مقدم کیا ہے۔
مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی نے اپنے بیان میں اس اعلان کو نہایت خوش آئند، مثبت اور دور رس نتائج کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدامات نہ صرف مذہبی شخصیات، مذہبی اقدار اور عقائد کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہیں بلکہ ملک میں امن و امان، بھائی چارے، رواداری اور باہمی احترام کے فروغ میں بھی کلیدی کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ مذہبی منافرت اور نفرت انگیز بیانات آج سماج کے لیے ایک سنگین چیلنج بنتے جا رہے ہیں، جن کا سدِباب مضبوط اور مؤثر قانون سازی کے بغیر ممکن نہیں۔
مولانا نے اس بات پر زور دیا کہ اس نوعیت کے قوانین کو صرف ریاستی اسمبلیوں تک محدود نہیں رکھا جانا چاہیے بلکہ پارلیمنٹ میں بھی اس سلسلے میں جامع، مؤثر اور واضح قانون سازی کی جانی چاہیے تاکہ پورے ملک میں یکساں طور پر مذہبی ہم آہنگی اور آئینی اقدار کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت جیسے کثیر المذاہب اور کثیر الثقافتی ملک میں تمام مذاہب کے احترام کو یقینی بنانا آئین کی روح ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ جب اس قسم کے قوانین منظور کیے جائیں تو پولیس افسران، انتظامیہ اور تمام متعلقہ محکموں کو ان قوانین پر سختی اور غیر جانبداری کے ساتھ عمل آوری کا پابند بنایا جائے، تاکہ قانون صرف کاغذی کارروائی تک محدود نہ رہے بلکہ اس کے عملی اور مثبت نتائج سامنے آئیں۔ مولانا نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ماضی میں کئی قوانین بنائے گئے، لیکن مؤثر عمل آوری نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے مقاصد حاصل نہ کر سکے، جس پر سنجیدگی سے غور کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی نے ان تنظیموں کا بھی شکریہ ادا کیا جنہوں نے اس اہم اور حساس مسئلہ پر وزیر اعلیٰ سے مؤثر نمائندگی کی، بالخصوص جمعیۃ علماء ہند کا خصوصی طور پر ذکر کرتے ہوئے ان کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ اسی طرح انہوں نے حکومتِ کرناٹک کی جانب سے اسی نوعیت کا قانون منظور کیے جانے پر حکومتِ کرناٹک کو بھی دلی مبارکباد پیش کی اور اسے ایک مثالی قدم قرار دیا۔
مولانا نے کانگریس پارٹی کی مرکزی قیادت، بالخصوص سونیا گاندھی، راہل گاندھی، پرینکا گاندھی اور ملکارجن کھرگے کو اس جرات مندانہ، دانشمندانہ اور مثبت فیصلے پر دلی مبارکباد پیش کی، اور اس امید کا اظہار کیا کہ مستقبل میں بھی اسی طرح کے اقدامات کے ذریعے ملک میں امن، بھائی چارہ، مذہبی رواداری اور آئینی اقدار کو مزید مستحکم کیا جائے گا۔

مذہبی منافرت اور مقدس شخصیات کی توہین کے خلاف سخت قانون سازی وقت کی اہم ضرورتتلنگانہ حکومت کے مجوزہ ریزولوشن کا خیر مقدم — مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی

مذہبی منافرت اور مقدس شخصیات کی توہین

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے