نگاریڈی ضلع میں پنچایت انتخابات میں بی آر ایس پارٹی کے سرپنچ، نائب سرپنچ اور وارڈ ممبرس کی شاندار کامیابی پر تہنیتی تقریب کا انقاد چنتا پربھاکر رکن اسمبلی سنگاریڈی اور ٹی ہریش راو سابق وزیر بحیثیت مہمان خصوصی کی شرکت ٹی ہریش راو سابق وزیر کا خطاب
سنگاریڈی20 ڈسمبر (روز نامہ پٹریاٹک ویوز ) ضلع سنگاریڈی میں پنچایت انتخابات میں بی آر ایس پارٹی کی جانب سے کامیابی حاصل کرنے سرپنچ، نائب سرپنچ اور وارڈ ممبرس کی تہنیتی تقریب چنتا پربھاکر رکن اسمبلی سنگاریڈی و صدر بی آر ایس پارٹی ضلع سنگاریڈی منعقد ہوئی جس میں ٹی ہریش راو سابق وزیر بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کی۔ ٹی ہریش راو سابق وزیر نے مخاطب کرتے ہوے کہا کہ عمومی طور پر سرپنچ انتخابات میں بر سراقتدار پارٹی 90 فیصد نششتوں پر کامیابی حاصل کرتے ہیں لیکن کانگریس بر سر اقتدار ہوکر بھی صرف 60 فیصد نششتوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی غلط اعداد و شمار بتا رہیں ہے۔ حلقہ اسمبلی سنگاریڈی میں بی آر ایس کے 34 سرپنچ منتخب ہوے جبکہ ریونت ریڈی نے حلقہ اسمبلی سنگاریڈی میں بی آر ایس کی 29 نششتوں پر کامیابی کا دعویٰ کیا۔جو کہ صریح جھوٹ ہے۔ اگر سیاست میں جھوٹ بولنے کا نوبل پرائز ہوتا تو ریونت ریڈی کو ملتا۔ سرپنچ انتخابات میں پارٹی نشان نھیں ہوتا اس کے باوجود بی آر ایس نے اتنی بڑی کامیابی حاصل کی ہے جس سے عوامی موڈ کا اظہار ہوتا ہے۔ سرپنچ انتخابات نتائج سے عوام نے ظاہر کردیا ہیکہ کار کا زور ہے اور کانگریس سے بیزار ہے۔ بی آر ایس نے اپنے دور اقتدار میں میں 90 فیصد رپنچ، تمام 30 ضلع پریشد، 10 ڈی سی سی بی اور 149 کے منجملہ 142 بلدیات پر کامیابی حاصل کہ تھی۔ چیف منسٹر ریونت ریڈی نے سرپنچ انتخابات جوکہ بنا پارٹی سمبل کے منعقد ہوئے تھے اس میں کانگریس کا حشر دیکھ چکے ہیں۔ بی آر ایس کی عوامی مقبولیت سے خائف ہے اور چیف منسٹر ریونت ریڈی اب ایم پی پی، امداد باہمی اور ضلع پریشد انتخابات منعقد نھیں کریگی۔ پارٹی سمبل انتخابات میں بی آر ایس کی کار کے سامنے کوئی بھی کھڑا نھیں ہوسکتا ہے۔ کانگریس حکومت کو اپنی امکانی شکست کا اندازہ اس لیے امداد باہمی اداروں کے عہدے نامزدگی بنیاد پر پر کرنے کا۔جی او جاری کیا ہے۔ چیف منسٹر ریونٹ ریڈی غریب عوام اور کسانوں کی فلاح و بہبود پر کوئی توجہ نھیں دے رہے ہیں بلکہ سرکاری خازانہ سے اپنے خانگی شوق کی تکمیل کر رہے ہیں۔ 100 کروڑ روپیہ کے خرچ سے عالمی مقابلہ حسن منعقد کروایا جس سے تلنگانہ کو کوئی فائدہ نھیں ہوا۔ اپنا اور اپنے نواسہ کا شوق پورا کرنے کے لیے سنگارینی کالریز کے پیسہ سے ن
میسی کے ساتھ فٹبال میاچ کھیلا۔ چیف منسٹر نے اپنے فٹبال مشق کے لیے 5 کروڑ سے فٹبال گراونڈ بنوایا۔ ریونت ریڈی کو تلنگانہ کے عوام کو جواب دینا چاہئے کہ ان ایونٹس پر سرکاری خزانہ سے پءسہ خرچ کیا ہے اس سے تلنگانہ کو کیا فائدہ ہوا ہے۔ کے سی آر نے سنگارینی کے سی ایس آر فنڈس سے سنگارینی علاقہ میں روڈس ، اسکول بلنڈگس اور میڈیکل کالج تعمیر کروایا۔ کے سی آر نے سنگارینی کے فنڈس سے تلنگانہ کے مستقبل کو تیار کیا جبکہ ریونت ریڈی فٹبال کھیل کر اپنا شوق پورا کر رہے ہیں۔ کے سی آر نے اقتدار میں آتے ہی اندرون ایک ماہ وظیفہ پیرانہ سالی کو 200 روپیہ سے دو ہزار روپیہ کردیا۔ ریونت ریڈی نے مہا لکشمی اسکیم کے تحت ریاست کی خواتین کو مہانہ ڈھائی ہزار روپیہ امداد دینے کا وعدہ کیا۔ وظیفہ پیرانہ سالی کو دو ہزار سے بڑھاکر 4 ہزار روپیہ کردینے اور 500 روپیہ میں گیس سلنڈر دینے کا وعدہ کیا تھا دو سال کا عرصہ گذر جانے کے باوجود اہنا وعدہ پورا نھیں کیا۔ کے سے آر کے دور میں ریاست کا کسان خوشحال تھا اس کو کوئی پریشانی نھیں ہوئی۔ کے سی آر نے کسانوں کو 24 گھنٹہ مفت بجلی، پانی، رائتو بندھو، رائتو بیمہ، فصل بیمہ، بروقت یوریا و تخم کی فراہمی اور فصل کو ایم ایس پی قیمت کو یقینی بنایا۔ کے سی آر نے اپنے دور میں یوریا کی لاریوں کو راست مواضعات کو روانہ کیا تھا۔ اب ریونت ریڈی سرکار میں 24 گھنٹہ برقی نھیں، رائتو بندو، رائتو بیمہ، فصل بیمہ اور پانی نھیں مل رہا ہے۔ یوریا کے لیے طویل قطاریں کسانوں کا مقدر بن گیا۔ کانگریس حکومت یوریا کے حصول کے لیے محکمہ زراعت کے تحت آج سے موبائل ایپ شروع کیا ہے۔ دیہی عام سادہ لوح کسان کو موبائل ایپ نھیں بلکہ آسانی کے ساتھ گھر کے قریب یوریا چاہئے۔ انھوں نے نو منتخب سرپنچوں کو مشورہ دیا کہ وہ خوش اسلوبی، خوش اخلاق اور خوش گفتار کے ساتھ عوام کی خدمت کریں آپ لوگ کو خدمت کے لیے چنا گیا ہے ہمیشہ اس حقیقت کو یاد رکھیں۔ ملک کے جمہوری نظام میں سرپنچ بہت طاقتور عہدا ہے۔ ملک میں وزیر آعظم، چیف منسٹر، وزراء اور اراکین اسمبلی کو چیک پر دستخط کرنے کا اختیار نھیں ہے جبکہ سرپنچ کو یہ اختیار حاصل ہے۔ برسر اقتدار کانگریس کے کسی قائد سے خائف ہونے کی ضرورت نھیں ہے چونکہ سرپنچ کے اختیارات میں کوئی مداخلت نھیں کرسکتا۔ 15 ویں فینانس کمیشن کے 85 فنڈس مرکز سے راست گرام پنچایت کھاتہ میں جمع ہوتے ہیں۔ ریاستی حکومت نہ اس میں مداخلت کرسکتی اور نہ روک سکتی ہے۔ کانگریس حکومت مزید دو سال رہیگی جبکہ سرپنچ 5 سال رہیں گے یعنی سرپنچوں کے آخری تین سال کا دورانیہ بی آر ایس حکومت میں ہوگا۔ ہریش راو نے کہا کہ کامیاب امیدواروں پر فرائض کی ذمہ داری ہے جبکہ۔شکست خوردہ۔امیدواروں کا مستقبل تابناک ہے۔ چنتا پربھاکر رکن اسمبلی سنگاریڈی نے کہا کہ پنچایت انتخابات میں پولیس نے بی آر ایس امیدواروں کو ہراساں ہے۔ حکومت نے اقتدار کی طاقت پر بی آر ایس امیدواروں کو روکنے کی کوشش کی اتنا سب ہونے کے باوجود عوام نے بی آر ایس کا ساتھ دیا اور بہترین کامیابی سے ہمکنار کیا۔ انھوں تمام کو مبارکباد دی۔ اجلاس کو ایم اے حکیم اڈوکیٹ و سینئر قائد بی آر ایس، راجندر سابق صدر ٹی این جی اوز یونین، ایم اے مقیم سپریم کورٹ آڈوکیٹ و سینئر قائد بی آر ایس، پٹنم مانکیم، بچی ریڈی، ڈاکٹر سری ہری، ملا گوڑ و دیگر نے مخاطب کیا۔ آخ




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































