افتخار الصوفیہ حضرت علامہ الحاج سید شاہ اعظم علی صوفی اعظم ثانی قادری کے دینی ملی ، سماجی ، رفاہی خدمات
حضرت علامہ الحاج سید شاہ اعظم علی صوفی اعظم ثانی قادری کے دینی ملی سماجی رفاہی بے لوث خدمات کا احاطہ نہ صرف مشکل ہے بلکہ ناممکن بھی ہے۔ حضرت کے کارنامہ حیات جو بیسویں صدی کیلئے امتیازی حیثیت رکھتی ہے وہیں اکیسویں صدی بلکہ شمع علم کی تابنا کی تک پروانہ علم وعرفان کے لئے مشعل راہ ہے۔ حضرت افتخار الصوفیہ ۶ فروری ۱۹۴۱ء کو ایسے گھرانے میں تولد ہوئے جو علم و عرفان کا مرکز ہے۔ آپ ابو الحسنات حضرت علامہ سید شاہ شجاع الدین علی صوفی القادری مدنی بادشاہ کے فرزند اکبر اور بارگاہ قطب دکن حضرت صوفی اعظم و خانقاہ صوفیہ کے سجادہ نشین کیساتھ ساتھ اپنے دادا حضرت صوفی اعظم والد ابوالحسنات کے مسند ارشاد کے وارث و جانشین بھی تھے۔آپ کی تعلیم سٹی کالج، چادر گھاٹ کالج عثمانیہ یو نیورسٹی آرٹس کالج ،میں ہوئی۔ عثمانیہ یونیورسٹی سے ۱۹۶۲ء میں کامرس میں پوسٹ گریجویشن (ایم کام ) کیا۔ اسی جامعہ سے ایل ایل بی میں بدرجہ امتیازی کامیابی حاصل کی۔ بمبئی کے امتحان سی اے آئی آئی بی ،منعقدہ ۱۹۶۷ء میں مولانا نے امتیازی کامیابی حاصل کی اور اکاؤنٹنسی میں ملک بھر میںسب سے زیادہ نشانات حاصل کر کے گولڈ میڈل ایوارڈ حاصل کیا۔ دینی علوم میں قرآن، وحدیث فقہ، تصوف ،عربی زبان فارسی اپنے عم محترم حضرت ابوالفیض سید شاہ سجاد علی صوفی واعظ عالی اور اپنے والد محترم حضرت ابو الحسنات سید شاہ شجاع الدین علی صوفی القادری مدنی سے حاصل کیا۔ آپ نے اپنے خسر محترم پروفیسر سید شاہ لیاقت حسین قادری صدر شعبه عربی جامعہ عثمانیہ سے بھی تصوف اور دیگر علوم میں استفادہ کیا۔ آپ نجیب الطرفین سادات تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب ۲۳ ویں پشت میں حضرت غوث الاعظم سے جاملتا ہے اس لئے آپ حسنی و حسینی قادری ہیں۔خطیب ملت صوفی اعظم ثانی کے جد امجد حضرت ابوالعابد سید شاہ اعظم علی صوفی حسنی و حسینی قادری مجمع السلاسل اور آپ کی دادی حضرت کلثوم بیگم صاحبہ حضرت حافظ میر شجاع الدین حسینی قادری ( جن کا گنبد عیدی بازار میں ہے ) نبیره زادی تھیں ۔ آپ کی والدہ محترمہ حضرت حکیم حبیب سالم کی صاحبزادی اور حبیب یار جنگ بہادر کی نبیرہ زادی تھیں حضرت اعظم علی صوفی کی زندگی کا اہم ترین مشن تعلیم ( دینی و دنیوی ) ۴۴ سال تک جاری رہا۔ یہ سلسلہ دینیه اعظمیہ موقوعہ درگاہ حضرت صوفی اعظم سے ہوا۔آپ ۷سال کی عمر میں آپ نے پہلا وعظ فرمایا۔ ۱۹۶۴ء سے آپ نے باضابطہ کا مرس کی تعلیم کا اپنے مکان تصوف کردہ میں بی کام ، ایم کام کی کلاس کا آغاز فرمایا جو آپ کے وصال تک جاری رہا۔ آپ کا طریقہ تدریس بہت سادہ دلنشین تھا۔مولا نا محترم کے ہزاروں شاگرد دنیا کے مختلف ممالک میں چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ، ایڈوکیٹس، سرکاری عہدہ دار اور کئی کالجوں میں بحیثیت لکچر رخدمات انجام دے رہے ہیں۔ خصوصی طور پر سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، برطانیہ اور امریکہ میں آپ کے شاگردوں کی بڑی تعداد ذمہ دار عہدوں پر فائز ہے۔افتخار الصوفیہ کی قیام گاہ شہر حیدرآباد میں دینی و دنیوی تعلیم کی قدیم واہم ترین مرکز کی حیثیت سے جانی مانی جاتی ہے۔ حضرت کو اپنے والد محترم سے اجازت بیعت و خلافت حاصل تھی ۔ آپ کے دست حق پرست پر سینکڑوں تشنگان علم و عرفان حلقہ ارادت میں شامل ہوئے ۔ مولانا سید شاہ اعظم علی صوفی کے مواعظ و خطبات کا سلسلہ ۵۶ سال کے طویل عرصہ تک جاری رہا۔ ممبئی، پونه، مدراس ، بنگلور، ویلور ، را ئچور ، او اٹھی کے علاوہ اضلاع تلنگانہ کرنا تک و مہاراشٹرا کے مختلف مقامات پر بیانات کا سلسلہ طویل عرصہ تک جاری رہا۔ آپ نے ۴ مرتبہ امریکہ کا دورہ کیا اور کئی مقامات پر اردو اور انگریزی میں مخاطب کیا۔مولا نا محترم کی خصوصیت یہ تھی کہ جس طرح آپ اردو میں خیالات کا اظہار کرتے تھے اسی طرح انگریزی میں بھی بے تکان روانی کے ساتھ اظہار خیال کرتے تھے جس سے اہل زبان بھی انگشت بدنداں ہو جاتے۔ آپ اپنے مکان تصوف کدہ میں پابندی سے سالانہ مجالس ربیع الاول ، ربیع الثانی محرم اور اعراس صوفی اعظم وابوالحسنات وابوالفیض صوفی آپ کےوالد محترم کے بعد آپ کے زیر نگرانی ۶سال تک جاری رہا۔ درگاہ حضرت قطب دکن کی تعمیر نو مکمل آپ کی ہی خصوصی دلچسپی سے ہی انجام پائی ۔ مکہ مسجد سوسائٹی کے زیر اہتمام ۴ سال تک مکہ مسجد لائبریری ہال میں سیرت صحابہ پر ۱۰۰ صحابہ کی مکمل زندگی پر لیکچر دیتے رہے۔ قرآن وسیرت سوسائٹی کے زیر اہتمام خواجہ کا چھلہ مغلپورہ میں ہر اتوار ۱۳ سال تک درس کا سلسلہ جاری رہا۔ کل ہند تعمیر ملت کے اسٹیڈی سرکل کے اجتماعات کے علاوہ یوم رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم اور یوم صحابہ کے عظیم جلسوں سے ۲۸ سال تک مخاطب کرتے رہے۔ علاوہ ازیں کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے دینی و سالانہ جلسے یوم القرآن و جشن رحمة للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم سال کو ۲۵ سال تک پابندی سے مخاطب کرتے رہے۔تحریک احیاء سنت کے زیر اہتمام مسجد عبد النبی شاه کلیمیہ نورخان بازارمیں سیرت طیبہ پر سلسلہ وار ۳۵ لکچر ہر جمعہ ہوتے تھے۔ مولانا سید شاہ اعظم علی صوفی دینی اجتماعات کے علاوہ پلاننگ اکنامک ڈیولپمنٹ اور دوسرے عنوانات پر لکچرس دیتے رہے جس کا ملک کے ممتاز اداروں کی جانب سے انعقاد عمل میں لایا جاتاتھا۔اسی سلسلہ میں آپ ۱۹۶۴ء میں اسٹیٹ بنک آف حیدرآباد سے وابستگی اختیار کی تھی۔ آپ نے ان عنوانات پر اسٹیٹ بنک آف حیدر آبادٹر یننگ سنٹر ماریڈ پلی ، اسٹیٹ بنگ اسٹاف کالج بیگم پیٹ، اسٹیٹ بنک انسٹیٹیوٹ آف رورل ڈیولپمنٹ اور دیگر ممتاز اداروں میں مختلف عنوانات پر لکچر دیتے رہے۔ عثمانیہ یو نیورسٹی میں کامرس کے لکچرس کے تربیتی کورس میں بھی آپ کی خدمات سے استفادہ حاصل کیا گیا۔مولانا سید شاہ اعظم علی صوفی ریاستی حج کمیٹی کی جانب سے منعقدہ عازمین حج کے تربیتی اجتماعات سے بھی مخاطب کیا کرتے تھے۔ علاوہ ازیں سنی دعوت اسلامی اور تحریک احیاء سنت کے جلسوں کو جو حیدرآباد کے علاوہ اضلاع میں منعقد ہوتے تھے مخاطب کیا کرتے تھے ۔ ۱۹۸۰ء میں آپ نے حج بیت اللہ کی سعادت حاصل کی۔ دوسری مرتبہ ۱۹۹۹ء میں حج اکبر کی سعادت سے مشرف ہوئے ۔ مولا نا محترم نعت گو شاعر تھے۔ صوفی اعظم تخلص فرماتے تھے اور مرکزی سیرت کمیٹی قلعہ گولکنڈہ میلاد کمیٹی سکنڈ لانسر محمد لائن مدرسہ دینیہ رشید یه دبیر پورہ کے سر پرست اعلیٰ کے علاوہ کئی دینی و مذہبی اداروں سے وابسطہ ہونے کے ساتھ سرکاری دواخانوں میں انتقال کر جانے والے مسلم لاوارث نعشوں کی تجہیز و تکفین کیلئے تحریک احیاء سنت کے زیر اہتمام مسلم لاوارث میت بورڈ کے قیام میں آپ کا تعاون عمل رہا اور اس مسئلہ کو مستقل حل کرنے کیلئے اردو گھر مغل پورہ میں سمینار سے آپ نے حکومت آندھرا پردیش اور معززین شہر کو متوجہ کیا۔ آپ کی بے لوث خدمات کی وجہ سے حکومت آندھرا پردیش نے ریاستی وقف بورڈ کے لئے نو منتخب تشکیل میں آپ کو ممبر نامزد کیا تھا۔ آپ صوفی اعظم ٹرسٹ حیدر آباد (رجسٹرڈ) کے منیجنگ ٹرسٹی تھے۔ اس ٹرسٹ کے تحت دیوان صوفی اعظم کی دوبارہ اشاعت عمل میں آئی ۔ اسی ٹرسٹ کے زیر اہتمام حضرت ابوالحسنات کا کلام دیوان صوفی مدنی کی اشاعت عمل میں لائی گئی۔مولانا کی زندگی قرآن شریف و حدیث مطہرہ کا آئینہ تھی۔ آپ صبرو استقامت حلم و بردباری انکساری مشفق کیساتھ عزم وارادہ کے عظیم پیکر تھے۔ سینکڑوں ضرورت مند روزانہ آپ سے رجوع ہوتے اور فیضیاب ہوتے ۔ آپ کی بے لوث خدمات کا ہر کوئی معترف ہے۔ علم و عرفان میں آپ کو خاصہ کمال حاصل تھا۔ بلا جماعتی وابستگی ہر فرد آپ کے بیانات سننے کا متمنی رہتا ۔ ایسے عاشق رسول تھے جب بھی سر کار دو عالم صلی السلام کا اسم مبارک زبان پر آتا آپ کی آنکھیں اشکبار ہوتی تھیں ۔ سادگی آپ کی زندگی کا اہم عنصر تھا۔ اشاعت دین کیلئے آپ کی خدمات نا قابل فراموش ہیں۔ بسا اوقات آپ کو اسی سلسلہ میں طویل سفرکی صعوبتیں برداشت کرنا پڑتا لیکن آپ کے پائے استقامت میں کبھی لغزش نہیں آئی ۔ وقت کی پابندی آپ کی زندگی کا اہم خاصہ تھا۔ ہمیشہ وقت مقررہ سے قبل ہی آپ پہنچ جایا کرتے تھے اور آپ کو جتنا وقت دیا جاتا اس سے ایک منٹ بھی آگے بیان نہیں کرتے تھے۔ آپ کا انداز تخاطب لاکھوں کے مجمع میں جو رہتا وہ انداز مختصر مجلس میں بھی رہتا۔ آپ اکثر ارشاد فرماتے اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذکر کی محفل…




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































