ہفتہ 21 رجب 1447هـ
#تلنگانہ

ظفر محی الدین کے اعزاز میں شاہین ادارہ جات بیدر کا شاندار تہنیتی پروگرام،کرناٹک راجیہ اُتسَو ایوارڈ 2025 پر والہانہ پذیرائی ڈرامہ ’محمود گاوان‘ کی پیشکش کا تاریخی اعلان

بیدر13 /ڈسمبر(نامہ نگار) ۔رائچور میں پیدا ہونے والے اور بنگلور کے یو وی سی ای سے آرکیٹیکچر کی تعلیم حاصل کرنے والے نامور فنکار، تھیئٹر آرٹسٹ اور آوازی اداکار ظفر محی الدین کو حکومتِ کرناٹک کی جانب سے کرناٹک راجیہ اُتسَو ایوارڈ 2025سے نوازے جانے پر شاہین ادارہ جات بیدر کی جانب سے ایک باوقار اور شایانِ شان تہنیتی تقریب منعقد کی گئی، جس میں علمی، ادبی اور سماجی حلقوں کی ممتاز شخصیات نے شرکت کی۔تقریب کا آغاز ظفر محی الدین کے پرتپاک استقبال سے ہوا، جہاں ان پر پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور انہیں والہانہ انداز میں خوش آمدید کہا گیا۔ اس تاریخی لمحے میں شہر کے اہلِ علم و ادب سمیت طلباء کی بڑی تعداد موجود تھی۔اپنے خطاب میں ڈاکٹر عبدالقدیر، چیئرمین شاہین ادارہ جات بیدر نے کہا کہ ظفر محی الدین نہ صرف فن و ثقافت کا معتبر حوالہ ہیں بلکہ اردو زبان، تھیئٹر، ڈبنگ آرٹ اور سماجی شعور کے فروغ میں ان کی خدمات مثالی حیثیت رکھتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک اردو اکادمی کے رکن کی حیثیت سے ظفر محی الدین نے زبان و ادب کی خدمت کو اپنا مشن بنایا، جب کہ ”ذکرِ غالب“ جیسے معیاری ڈراموں اور تھیئٹر کے ذریعے فنونِ لطیفہ کو نئی جہت عطا کی۔ اپنے پرتاثیر خطاب میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ ظفر محی الدین کا کرناٹک راجیہ اُتسَو ایوارڈ حاصل کرنا صرف ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ پوری اردو برادری، سماج اور فنونِ لطیفہ کے لیے باعثِ مسرت اور فخر کا لمحہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ظفر محی الدین نے جس خلوص، فنکارانہ مہارت اور سماجی بصیرت کے ساتھ اپنے میدانِ عمل میں خدمات انجام دی ہیں وہ آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا“میں نے کئی فنکاروں کو دیکھا، سنا اور ان کی جدوجہد کا مطالعہ کیا، لیکن ظفر محی الدین کا سفر اُن شخصیات میں سے ہے جنہوں نے اپنے فن کو صرف پیشہ نہیں بلکہ ایک مقدس امانت سمجھ کر نبھایا۔ آواز کی دنیا میں ان کا سلیقہ، تھیئٹر میں ان کی مہارت اور سماج کے لیے ان کی حساسیت انہیں اپنی مثال آپ بناتی ہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ شاہین ادارہ جات کے لیے یہ اعزاز کی بات ہے کہ وہ ایک ایسی شخصیت کی میزبانی کر رہے ہیں جس نے نہ صرف ریاست بلکہ ملک میں ڈرامہ کی دنیا میں اردو کی جمالیاتی عظمت کو بلند کیا ہے۔ظفر صاحب نے جس مہارت کے ساتھ ’ذکرِ غالب‘ جیسے ڈراموں کو نئی روح عطا کی، وہ ثابت کرتا ہے کہ فن صرف اداکاری کا نام نہیں، یہ تہذیب، احساس اور شعور کا امتزاج ہے۔ڈاکٹر عبدالقدیر نے اس موقع پر اعلان کیا کہ بیدر میں بھی ایک ڈرامہ ظفر محی الدین کی زیرِ نگرانی و ہدایت پر ”محمود گاوان“پر پیش کیا جائے گا۔خطاب کے اختتام پر انہوں نے کہاظفر محی الدین نہ صرف کرناٹک کی، بلکہ ہندوستان کی آواز، تہذیب اور ثقافتی وراثت ہیں۔ میں دل سے دعا گو ہوں کہ اللہ انہیں مزید کامیابیاں دے اور ان کا اثر آنے والی نسلوں تک پھیلے۔ شاہین گروپ آج اُن کے اس سفر میں شانہ بشانہ ہے اور رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ شاہین گروپ کی ترقی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ادارہ صرف علمی ترقی کا نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کا ذریعہ ہے۔انہوں نے کہاہم ملک بھر سے آئے ہوئے طلباء کو نہ صرف تعلیم دیتے ہیں بلکہ انہیں عزت سے جینا، تہذیب، نظم و ضبط اور انسانیت کا سبق بھی دیتے ہیں۔ یہی شاہین کی اصل شناخت ہے۔انہوں نے AICU (Academic Intensive Care Unit) کے تعلیمی ماڈل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ نظام آج بھارت میں ایک انقلاب بن چکا ہے۔ہمارا AICU ماڈل اس ملک کے پسماندہ اور تعلیم سے دور رہ جانے والے طلباء کیلئے امید کی آخری کرن ہے۔ یہ ماڈل اگر مدارس اور دیگر اداروں میں نافذ ہو جائے تو ملک کی تعلیمی ساخت بدل سکتی ہے۔تقریب میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے ظفر محی الدین نے کہا کہ کرناٹک راجیہ اُتسَو ایوارڈ ان کے لیے اعزاز ہی نہیں، بلکہ اپنے چاہنے والوں اور فن سے محبت رکھنے والوں کا اعتماد ہے، جو ان کے حوصلے کو مزید بلند کرتا ہے۔ انہوں نے اس پذیرائی پر شاہین گروپ کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر اور ادارہ کے تمام ذمہ داران کا تہِ دل سے شکریہ ادا کیا۔انہوں نے شاہین گروپ آف انسٹی ٹیوشنز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ آج ملک کی تیزی سے ترقی کرتی ہوئی تعلیمی تحریکوں میں شمار ہوتا ہے۔ ملک کی متعدد ریاستوں میں اس کے اسکول، پی یو کالجز اور گریجویشن کالجز کامیابی سے کام کر رہے ہیں، جب کہ ایک ادارہ سعودی عرب میں بھی قائم ہے۔ اس کے ساتھ ہی شاہین گروپ NEET، JEE، UPSC سمیت دیگر قومی سطح کے مسابقتی امتحانات کی تیاری میں نمایاں مقام رکھتا ہے۔ ہر سال اس ادارے کے درجنوں طلباء ملک کے نامور میڈیکل کالجز خصوصاً AIIMS دہلی میں داخلہ حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے AICU (Academic Intensive Care Unit) کے منفرد تعلیمی ماڈل کو شاندار قرار دیا اور کہا کہ اگر یہ تصور ملک کے تمام مدارس میں رائج ہوجائے تو ایک مثبت تعلیمی انقلاب برپا ہوسکتا ہے۔ انہوں نے اعتراف کیا کہ شاہین ادارہ جات نے تعلیم منقطع کرنے والے طلباء اور حفاظ کیلئے جو شاندار تعلیمی تحریک شروع کی ہے وہ قابلِ تقلید اور لائقِ تحسین ہے۔اس موقع پر ممتاز ماہرِ تعلیم، صحافی اور کالم نگارجناب افتخار شریف نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا، جب کہ بین الاقوامی شہرت یافتہ ناظمِ مشاعرہجناب شفیق عابدی نے شاہین ادارہ جات کی تعلیمی خدمات پر ایک خوبصورت نظم پیش کی، جس پر حاضرین نے پرجوش انداز میں داد دی۔کرناٹک اردو اکادمی کے رکن جناب محمد امین نواز نے ظفر محی الدین کی خدمتِ فن و ادب کے اعتراف میں ایک خصوصی نظم تحفۃً پیش کی۔ تقریب میں جناب عبدالمنان سیٹھ، عبدالحنان سیٹھ، محمد اقبال رائچور، عبدالحلیم سمیت متعدد معزز شخصیات موجود تھیں۔پروگرام کے دوران شاہین شعب? حفظ القرآن کے تین نوخیز حفاظ طلباء کی گلپوشی بھی کی گئی جنہوں نے قرآنِ کریم مکمل حفظ کیا۔پروگرام کی نظامت جناب سید الطاف نے نہایت شاندار انداز میں کی اور اس باوقار تقریب کو یادگار بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔یہ اجتماع نہ صرف ایک فنکار کے اعزاز کا لمحہ تھا بلکہ فن، تعلیم، سماج اور تہذیب کی مشترکہ قدروں کا خوبصورت اظہار بھی۔

ظفر محی الدین کے اعزاز میں شاہین ادارہ جات بیدر کا شاندار تہنیتی پروگرام،کرناٹک راجیہ اُتسَو ایوارڈ 2025 پر والہانہ پذیرائی ڈرامہ ’محمود گاوان‘ کی پیشکش کا تاریخی اعلان

میرؔبیدری کی نئی کتاب ”دکنی۔ دوم“ عنقریب

ظفر محی الدین کے اعزاز میں شاہین ادارہ جات بیدر کا شاندار تہنیتی پروگرام،کرناٹک راجیہ اُتسَو ایوارڈ 2025 پر والہانہ پذیرائی ڈرامہ ’محمود گاوان‘ کی پیشکش کا تاریخی اعلان

حضرت سید شاہ حسینی پیراں صاحب کو

Leave a comment

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے