بیدر13 /ڈسمبر(نامہ نگار)یارانِ ادب بیدر کی جانب سے ایک پریس نوٹ جاری کرکے بتایاگیاہے کہ اردو اور دکنی زبان کے ممتاز شاعروادیب جناب میرؔبیدری (محمدیوسف رحیم بیدری) کادکنی زبان کاشعری مجموعہ ”دکنی دوم“ کے عنوان سے عنقریب منظر عام پر آرہاہے۔ جس کو ایجوکیشنل پبلشنگ ہاوز نئی دہلی نے شائع کیاہے۔ 128صفحات کی اس کتاب میں دکنی دوہے،دکنی رباعیات،دکنی قطعات،دکنی بیت، دکنی نظمیں اوردکنی غزلیں شامل ہیں۔ چنددکنی اشعار ملاحظہ کیجئے ؎آقا جاں کو ہنگے، وھاں کچ میں بھی جاتوں، میرؔجنت میں ہیں آقا، سب سمج رُوں، مَرے ہوؤں کے توچھوڑ قصے،کہ تیرا ہوکہ جیا ہے کیا بول، نئیں تھا شاہی مزاج مراہرگز، کِتّے کی لوگاں میں بٹے واتھا، روز چ دیکھ رِیں بھاناں بھاناں موں، بھایاں تو ویسے بھی نئیں آرے، بنائے گا بکرا، کسی کووہ مرغا، بڑایار لیڈر ہے چھرّا پڑوسی، ویری ویری گُڈ، کرے کاماں تو ہیں میرؔ، لوگ بولنگے تُمے پھر وِیر بِدری، اس کتاب سے چھ ماہ قبل ”دکنی“ نام سے میرؔبیدری کی دکنی شاعری کاپہلا مجموعہ منظر عام پر آکر قبولیت عام کی سند حاصل کرچکاہے۔ چھ ماہ کے اندراندر دکنی زبان کا میرؔبیدری کایہ دوسرا مجموعہ ہے، جس کو دکنی زبان سے محبت کرنے والے افراد کے سامنے یارانِ ادب بیدر پیش کررہاہے۔ کتاب کے حصول کے لئے 9845628595/8867818382پررابطہ کیاجاسکتاہے۔
Post Views: 10