کللم پلی درگاہ سے امن و محبت کا پیغام: تصوف ہندوستان کی پہچان — مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی
نارائن پیٹ، 27 اکتوبر (پٹریاٹک ویوز / زیڈ نیوز)
درگاہ حضرت سید احمد قتال حسینیؒ، کللم پلی میں منعقدہ 25ویں سلور جوبلی سرو دھرم سمیلن میں مختلف مذاہب کے رہنماؤں، علمائے کرام اور صوفی بزرگوں نے شرکت کرتے ہوئے محبت، رواداری اور انسانیت کا پیغام عام کیا۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی، ایڈیٹر روزنامہ پٹریاٹک ویوز اور چیئرمین زیڈ نیوز ٹی وی چینل نے فرمایا کہ:
“آج ہم اس مقدس سرزمین پر جمع ہیں جہاں سے محبت، رواداری، انسانیت اور امن کا پیغام صدیوں سے پوری دنیا میں پھیل رہا ہے۔ یہ درگاہیں، یہ خانقاہیں — صرف عبادت کی جگہیں نہیں بلکہ انسانیت کے مراکز ہیں۔”
مولانا نے کہا کہ حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیریؒ، حضرت نظام الدین اولیاءؒ، حضرت بندہ نواز گیسو درازؒ، اور دیگر صوفیائے کرام نے ہمیشہ محبت و انسانیت کے دروازے سب کے لیے کھلے رکھے۔ انہی تعلیمات کو آج بھی کللم پلی درگاہ زندہ رکھے ہوئے ہے۔
مولانا ریاض احمد قادری حسامی نے اپنے خطاب میں مولانا حمید الدین حسامی عاقلؒ کے اشعار کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا کہ عاقلؒ کے کلام میں روحانیت، وسعتِ فکر اور انسان دوستی کا پیغام جھلکتا ہے۔
مولانا ریاض احمد نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اس شعر میں مولانا عاقلؒ نے تصوف کے اصل مقصد کو بیان کیا ہے — یعنی وہ روحانی فیض جو کسی خاص طبقے کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ہے۔
یہی تصوف کی شان ہے کہ وہ راہِ ہدایت کے دروازے سب کے لیے کھول دیتا ہے، خواہ کوئی غافل ہو یا عالم۔
مولانا ریاض احمد قادری حسامی نے فرمایا کہ اس شعر میں عاقلؒ نے واضح کیا کہ تصوف کا مقصد مسلکی تفریق نہیں بلکہ نبی کریم ﷺ کے عشق اور تعلیمات کی خوشبو کو عام کرنا ہے۔
یہ تمام سلاسل — قادری، چشتی، نقشبندی، سہروردی — دراصل اسی نبوی فیض کے چشمے سے سیراب ہیں، اور ان سب کا پیغام ایک ہی ہے — محبت، خدمت، اور امن۔
مولانا نے مزید کہا کہ ہندوستان کی سرزمین گنگا جمنی تہذیب کی جیتی جاگتی مثال ہے، جہاں مختلف مذاہب کے ماننے والے صدیوں سے باہمی احترام کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔
انہوں نے افسوس ظاہر کیا کہ آج کچھ عناصر سیاسی مفاد کے لیے مذہبی منافرت پھیلا رہے ہیں، جو نہ صرف ہندوستانی تہذیب بلکہ صوفیاء کی روحانی تعلیمات کے بھی سراسر خلاف ہے۔
اختتام پر مولانا ریاض احمد قادری حسامی نے کہا کہ ہمیں درگاہوں اور خانقاہوں کی اس روشنی کو قائم رکھنے کی ضرورت ہے، جو نفرت کے اندھیروں کو مٹاتی ہے اور انسانیت کے دلوں کو جوڑتی ہے۔
انہوں نے کللم پلی درگاہ کے ذمہ داران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ایسے اجتماعات ہندوستان کی روحانی یکجہتی کی علامت ہیں۔
⸻




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































