حضرت علامہ فاضل ؒوعلامہ عاقلؒ :دکن کی علمی، روحانی اور اصلاحی رہنمائی کا روشن باب
مولانا محمدریاض احمدقادری حسامی (خلیفہ مولاناجعفرپاشاہ ثانی عاقل قبلہ)
حضرت علامہ محمد حسام الدین فاضلؒ کا شمار برصغیر کی اُس عظیم علمی و روحانی شخصیات میں ہوتا ہے جنہوں نے تیرہویں صدی ہجری کے دینی، فکری اور اصلاحی ماحول میں ایک منفرد مقام پیدا کیا۔ آپ کی ولادت 19 شعبان (سن ہجری بمطابق جمعہ کی مبارک ساعت) مقام محمد آباد، بیدر (اس وقت ریاست حیدرآباد،دکن) میں ہوئی۔ آپ کے والدِ ماجد مولوی محمد جعفر ایک دیندار، علم دوست اور شریعت پر کاربند شخصیت تھے۔ آپ کا سلسلہ نسب بیدر کے قدیم علما اور مشائخ سے جا ملتا ہے۔ خاندان کے جدِ اعلیٰ حضرت مولانا سید تاج الدین، جو اپنے وقت کے بڑے عالم اور ملت کے رہنما تھے، بادشاہ عالمگیر کے ساتھ دہلی سے بیدر تشریف لائے اور وہیں سکونت اختیار کی۔ اسی علمی و روحانی فضا میں حضرت فاضلؒ کی پرورش ہوئی۔
ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کرنے کے بعد آپ نے قرآن، فقہ، حدیث اور عربی ادب میں مہارت حاصل کی۔ آپ کا ذوقِ علم اس قدر بلند تھا کہ شادی کے بعد بھی تعلیم کا سلسلہ منقطع نہ کیا۔ مولوی، دبیر، ادیب، مولوی عالم اور مولوی فاضل کے امتحانات میں آپ نے درجہ اوّل سے کامیابی حاصل کی۔ ان کامیابیوں پر سرکاری انعامات اور اسکالرشپ بھی عطا کیے گئے۔ حصول علم کے سلسلے میں آپ نے اُس زمانے کے چوٹی کے علما سے استفادہ کیا، جن میں دکن کے نامور مشائخ اور اساتذہ شامل تھے۔
1914ء میں انجمن حسامیہ کے نام سے شبینہ مدرسہ قائم فرمایا، جہاں سے بے شمار طلبہ نے اعلیٰ امتحانات میں کامیابی حاصل کی۔ آپ مدرسہ آصفیہ میں قلیل عمر میں مدرس مقرر ہوئے ۔1919ء میں بطورِ مددگار مدرس مدرسہ و سطانیہ (گوشہ محل، حیدرآباد) میں ملازمت کا آغاز کیا۔ یہ اسی دور کی ایک معزز دینی درسگاہ تھی جس کی تاریخ و روایت شہرِ حیدرآباد کے علمی ڈھانچے کا حصہ رہی ہے۔ پھر دارالعلوم میں شعبہ دینیات کے معلم اور 1935ء میں عثمانیہ یونیورسٹی کے شعبہ دینیات میں پروفیسر کے اعلیٰ عہدے پر فائز رہے۔ آپ کے شاگردوں میں قابل ذکر نواب بہادر یار جنگ اور نظام سادس کے دو صاحبزادے اور دیگر نامور شخصیات شامل ہیں۔
علامہ فاضلؒ نہ صرف عالم باعمل تھے بلکہ بے مثال خطیب اور واعظ بھی تھے۔ ان کے مواعظ میں ایسی روحانی تاثیر تھی کہ مجمع پر سکتہ طاری ہو جاتا۔ ان کی محفلوں میں ہر عمر اور ہر طبقے کے لوگ،مرد، عورتیں، بچے، تعلیم یافتہ اور غیر تعلیم یافتہ ساعتوں بیٹھ کر دلوں کو گرما دینے والے کلمات سنتے۔ اگر کبھی دیر رات تک وعظ جاری رہتا اور نیند کے آثار ظاہر ہوتے تو آپ شائستگی سے کوئی لطیفہ بیان کرتے تاکہ محفل تازہ دم ہو جائے، اور پھر اسی لطیفے سے ایک رقت آمیز نصیحت نکالتے۔ بے شمار خدا فراموش ان کے وعظ سن کر خدا شناس اور بے نمازی نمازی بن گئے۔
حضرت علامہ فاضلؒ صاحبِ قلم بھی تھے اور صاحبِ دیوان شاعر بھی۔ اصلاحِ معاشرہ، نعتیہ شاعری اور تصوف پر آپ کی کئی تصانیف موجود ہیں، جیسے تفسیر فاضل، تذکرہ محمد، تذکرہ خدیجہ الکبریؓ، تذکرہ عائشہؓ، تذکرہ ابو بکر صدیقؓ، تذکرہ عمرؓ، تذکرہ علیؓ، تذکرہ حسنؓ، تذکرہ حسینؓ ،جذبات فاضل ،جواہر مناقب ،مسلمانوں کی سیاسی تنظیم کل ہند مسلم لیگ اور حیدرآباد دکن،تذکرہ نماز اور سعادت دارین۔ آپ کا نعتیہ دیوان جواہر فیض ربانی تقریباً 9 ہزار اشعار پر مشتمل ہے۔ یہ دیوان عشقِ رسول سے لبریز، علم کا خزانہ، تلمیحات سے مزین اور قومی درد کا آئینہ دار ہے۔
حضرت فاضلؒ کی زندگی زاہدانہ اوصاف، عالمانہ شان، واعظانہ گفتگو، شاعرانہ آن بان، مشفقانہ انداز اور صالحانہ روش سے مزین تھی۔ وہ مرشدِ کامل تھے جنہوں نے ہزاروں افراد کی اصلاحِ احوال کی۔ ان کی شخصیت میں علم، حلم، اخلاص اور محبت کا حسین امتزاج تھا۔
1350ھ میں آپ نے حج اکبر کی سعادت حاصل کی۔ مدینہ طیبہ میں طویل قیام کے دوران شیخ عبد القادر شبلی ؒاور حضرت عمر بن محمد شاذلی ؒ سے بیعت لی۔ کچھ عرصہ ان کی صحبت میں رہنے کے بعد دونوں بزرگوں نے آپ کو خلافت عطا کی اور طریقہ قادریہ و نقشبندیہ سہروردیہ میں اجازت و خلافت دی۔
21ربیع الاول1377ء کو آپ کی صحت بگڑ گئی اور آپ کو دواخانہ عثمانیہ میں شریک کیا گیا۔ غروبِ آفتاب سے قبل تشہد کی انگلی بلند ہوئی، زبان پر ذکرِ الٰہی جاری تھا اور آپ کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر گئی۔ دوسرے دن ظہر سے قبل آپ کا جنازہ مسجد چوک، حیدرآباد لایا گیا۔ تقریباً ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد نے دیدار کیا۔ نمازِ جنازہ مولانا سید بادشاہ حسینی (قادری چمن) نے پڑھائی۔ شبِ جمعہ حسامیہ چمن، عیدگاہ قدیم میں تدفین عمل میں آئی۔
آپ کے وصال کے بعد بھی حیدرآباد اور اس کے اطراف میں آپ کی یادگاریں، شاگرد اور مواعظ زندہ ہیں۔ آپ کا کلام آج بھی دلوں کو نرم کر تا ہے۔
حضرت فاضلؒ کی کاوشوں سے دکن میں اسلامی تعلیمات کی بقا اور فروغ کے لئے مضبوط بنیادیں فراہم ہوئیں۔ انجمن حسامیہ اور شبینہ مدارس سے تربیت یافتہ طلبہ نے برصغیر کے علمی مراکز میں نمایاں خدمات انجام دیں۔ آپ کے فیضان سے دارالعلوم، عثمانیہ یونیورسٹی اور دیگر ادارے آج بھی فیضیاب ہیں۔ کل ہند مجلس اتحاد المسلمین کے بانی نواب بہادر یار جنگ جیسے رہنما آپ کے شاگرد ہونے پر فخر محسوس کرتے تھے۔
آپ ایک جلیل القدر عالم دین اور عاشق رسولؐ تھے۔ آپ کی نعتیہ شاعری اور وعظ عشقِ رسول سے لبریز تھے۔ہزاروں طالبانِ حق نے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اور سلوک و معرفت کے مدارج طے کیے۔ آپ نے اپنی زندگی میں علم کو عمل کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا۔ آپ کی تقریروں نے گمراہ دلوں کو ہدایت اور معاشرے کو فکری سمت دی۔ آپ کا دیوان اُردو نعتیہ شاعری کا قیمتی سرمایہ ہے۔
حضرت علامہ محمد حسام الدین فاضلؒ کی حیاتِ طیبہ علم، عمل، عشق اور خدمتِ دین کی حسین تصویر ہے۔ آپ نے حیدرآباد دکن کے معاشرتی و دینی منظرنامے پر جو نقوش چھوڑے، وہ آج بھی اہلِ علم و عشق کے دلوں کو گرما رہے ہیں۔ آپ کا درسِ قرآن، آپ کی نعتیں، آپ کے مواعظ اور آپ کی شخصیت آنے والی نسلوں کے لئے مشعلِ راہ ہیں۔ آپ نے اپنی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ علم کا حقیقی مقصد عمل ہے اور عمل کا مقصد خلقِ خدا کی رہنمائی اور اللہ و رسولؐ کی رضا ہے۔
مولانا محمد حمید الدین حسامی عاقلؒ
مولانا محمد حمید الدین حسامی عاقلؒ کا نام دکن کی دینی و ملی تاریخ میں سنہری حروف سے درج ہے۔ دکن کے مورخین کے مطابق دکن کی تاریخ آپ کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتی۔ آپ نہ صرف ایک ممتاز عالم دین تھے بلکہ ایک متحرک سماجی مصلح، بے باک سیاسی رہنما اور قوم و ملت کے سچے خیر خواہ بھی تھے۔ آپ کی حیاتِ مبارکہ نصف صدی سے زیادہ عرصے پر محیط ایک مسلسل جدوجہد کا آئینہ ہے، جس میں علم، خدمت، قربانی، اتحاد اور حکمت کی روشنی جھلکتی ہے۔
مولانا عاقلؒ 1928ء کے قریب حیدرآباد دکن میں ایک علمی و روحانی خانوادے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد، حضرت علامہ حسام الدین فاضلؒ، دکن کے ممتاز علماء میں شمار ہوتے تھے۔ ابتدائی تعلیم والد گرامی کے زیر سایہ ہوئی، جبکہ دینی تعلیم کا آغاز جامعہ نظامیہ سے کیا۔ بعدازاں آپ نے عصری تعلیم کے لیے جامعہ عثمانیہ کا رخ کیا، جہاں سے بی اے اور ایم اے کی ڈگریاں حاصل کیں اور پی ایچ ڈی کے لیے داخلہ لیا۔ اس امتزاج نے آپ کی شخصیت کو ایک منفرد اور متوازن انداز عطا کیا۔
آپ نے اپنے علمی سفر کے دوران کئی دینی ادارے قائم کیے، جن میں جامعہ اسلامیہ دارالعلوم حیدرآباد سب سے نمایاں ہے۔ یہ ادارہ آج بھی جنوبی ہند میں علم و تربیت کا مینارِ نور ہے۔ آپ کے تربیت یافتہ ہزاروں طلبہ دنیا بھر میں دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ آگرہ، علی گڑھ، ممبئی، دہلی اور حیدرآباد کے علمی حلقوں میں آپ کے فکری اثرات آج بھی محسوس کیے جاتے ہیں۔
مولانا عاقلؒ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے رکنِ تاسیسی رہے۔ ملتِ اسلامیہ کے حساس مسائل پر آپ ہمیشہ سب سے آگے نظر آئے۔ قادیانیت کے فتنہ ہو، مسلم پرسنل لاء کے تحفظ کی تحریک ہو یا مسلم تعلیمی اداروں کے حقوق کی بات، آپ نے بے خوف ہو کر موقف پیش کیا۔ آپ کے خطابات میں علمیت کے ساتھ حکمت اور بے باکی جھلکتی تھی۔
مولانا کی تقریریں دکن کی فضا کو جگا دیتی تھیں۔ جب آپ مائیک سنبھالتے تو گاڑیاں سڑکوں پر رک جاتیں اور لوگ مسحور ہو کر سنتے۔ آپ کی زبانِ گفتار میں نہ صرف علمی نکات بلکہ عوامی مثالیں اور لطائف بھی شامل ہوتے، جو آپ کی تقاریر کو عام فہم اور مؤثر بناتے۔آپ نے فرمایا تھا :’’ہمارا اتحاد خربوزے کی طرح ہے، باہر سے الگ الگ لیکن اندر سے ایک۔‘‘ایسی مثالیں عوام کے دلوں میں اتر جاتی تھیں اور اتحاد و اتفاق کا پیغام عام کرتی تھیں۔مولانا نے ہمیشہ معاشرتی برائیوں اور غیر اسلامی رسوم کے خلاف آواز بلند کی۔ شادیوں میں فضول خرچی، جہیز اور تعلیمی پسماندگی جیسے مسائل پر آپ کی رہنمائی نے کئی گھروں کو سنوارا۔ دکن کی ثقافت کے تحفظ اور عصری تقاضوں کے مطابق اصلاحات کے لیے آپ کی کاوشیں ناقابلِ فراموش ہیں۔
ایمرجنسی کے دور میں جب حکومت نے نس بندی قانون نافذ کیا تو مولانا نے اس کے خلاف سب سے بلند آواز اٹھائی۔ آپ کا نعرہ ’’اگلا بچہ ابھی ابھی، بارہ کے بعد کبھی کبھی‘‘ پورے ملک میں گونج اٹھا۔ یہ جملہ حکومت کے لیے چیلنج بن گیا اور بالآخر آپ کو گرفتار کر لیا گیا۔ جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا آپ کے عزم اور اصول پرستی کا مظہر تھا۔ آپ نے فرمایا تھا : ’’حق کے لیے آواز بلند کرنا عبادت ہے، چاہے اس کی قیمت جیل کی دیواریں ہی کیوں نہ ہوں۔‘‘
مولانا نے ہمیشہ مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان ہم آہنگی پیدا کرنے کی کوشش کی۔ آپ نے فرمایا تھا : ’’مسلمان جب متحد ہوتے ہیں تو وہ تاریخ کا دھارا بدل سکتے ہیں۔‘‘یہی وجہ تھی کہ مختلف جماعتوں اور اداروں نے آپ کی رہنمائی میں مشترکہ پلیٹ فارم پر کام کیا۔آپ کی تقریروں میں حیدرآبادی زبان کے چھوٹے لطیفے شامل ہوتے تھے، جن سے عوام کے چہروں پر مسکراہٹ آجاتی تھی۔ مولانا کی حاضر جوابی ضرب المثل بن چکی تھی۔ پولیس کے غیر منصفانہ رویے پر کہا : ’’جاناریڈی اب انجانی ریڈی ہوگئے ہیں۔‘‘برقی بحران پر تبصرہ کیا : ’’اب آندھرا پردیش اندھیرا پردیش بنتا جارہا ہے۔‘‘سگریٹ نوشی پر ایک سوال کے جواب میں فرمایا : ’’ہاں، جنت میں سگریٹ ملے گا مگر جلانے کے لیے دوزخ جانا پڑے گا۔‘‘یہ لطائف آپ کی ذہانت اور عوام سے قریبی تعلق کو ظاہر کرتے ہیں۔آپ نے کہا کہ: ’’مسلمانوں نے اس ملک پر حکومت کی لیکن اسلام کی حقانیت کو نہ عمل سے ثابت کر سکے نہ پیغامِ شریعت کو صحیح طور پر پہنچایا‘‘۔
12 مارچ 2010ء کو تقریباً 82 برس کی عمر میں آپ کا وصال ہوا۔ حیدرآباد کے عوام نے نم آنکھوں سے آپ کو الوداع کیا۔ دینی و سماجی تنظیموں نے اسے ناقابلِ تلافی نقصان قرار دیا۔ آج بھی جب ملت کے حقوق کی بات ہوتی ہے تو آپ کی مثال پیش کی جاتی ہے۔ آپ کے قائم کردہ ادارے اور چھوڑے گئے افکار آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔مولانا حمید الدین حسامی عاقلؒ کی زندگی کا پیغام یہ ہے کہ علم و عمل کے بغیر کوئی تحریک پائیدار نہیں۔اتحاد و اتفاق ہی ملت کی طاقت ہے۔حق کے لیے آواز بلند کرنا ایمان کی علامت ہے۔اصلاحِ معاشرہ صرف تقریروں سے نہیں بلکہ عملی مثالوں سے ممکن ہے۔
آپ کی حیات ہمیں بتاتی ہے کہ علم کی روشنی اور قربانی کی حرارت کبھی مدھم نہیں پڑتی۔ آپ کا کردار آج بھی دکن اور برصغیر کی تاریخ کا روشن باب ہے۔مولانا کی قربانیوں کا اثر آج بھی دکن کے عوام کے دلوں میں زندہ ہے، اور آپ کی خدمات کو ملت کے لیے روشنی کا مینار کہا گیا۔وفات کے چودہ سال بعد بھی جب ملت کے لیے قربانی کی بات آتی ہے تو آپ کی مثال دی جاتی ہے۔آپ نے دینی مدارس کے سالانہ جلسوں کی صدارت کی اور بیماری کے باوجود ملت کی خدمت کے لیے تیار رہے۔ اللہ تعالیٰ سلسلہ حسامیہ کے بزرگوںاور تمام مرحومین کی مغفرت فرمائے ‘ اللہ تعالیٰ ان کو انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کے ساتھ جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































