حضرت عمرؓ کی سیرت پوری امت کے لیے مشعل راہ : مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی
حضرت عمرؓ کا شمار ان خوش نصیب صحابہ کرامؓ میں ہوتا ہے جنہیں رسول اللہ صلعم نے عشرہ مبشرہ میں شامل ہونے کی بشارت دی۔ آپؓ نے چالیس مردوں اور گیارہ عورتوں کے بعد اسلام قبول کیا اور آپؓ کے اسلام لانے سے مسلمانوں کو قوت، حوصلہ اور ظاہری اعلانِ حق کی اجازت ملی۔ اسی بنیاد پر رسول اکرم صلعم نے انہیں ’’الفاروق‘‘یعنی حق و باطل میں فرق کرنے والا لقب عطا فرمایا۔
ان خیالات کااظہار مسجد محمودہ، شاستر ی پورم میں نماز جمعہ سے قبل اپنے خطاب میں مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی (ناظم مدرسہ اسلامیہ ریاض العلوم، فلک نما )نے کیا۔مولانا نے اس موقع پرامیر المومنین حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی عظیم سیرت، بے مثال خدمات اور شہادت کی تفصیل سے روشنی ڈالی۔
مولانا نے کہاکہ حضرت عمرؓ کی حیاتِ مبارکہ آج بھی پوری امتِ مسلمہ کے لیے ایک مکمل نمونہ اور مشعلِ راہ ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ حضرت عمرؓ کی قبولیتِ دعا، فہمِ دین، اور اجتہادی بصیرت اس قدر بلند تھی کہ متعدد مرتبہ ان کے مشورے یا خیالات پر اللہ تعالیٰ نے قرآن کی آیات نازل فرمائیں۔ مشہور حدیث ہے کہ’’اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا، لیکن میرے بعد کوئی نبی نہیں۔‘‘
مولانا نے حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت (13 ہجری تا 23 ہجری) کو اسلامی تاریخ کا عظیم الشان اور اصلاحی دور قرار دیا۔ ان کے دور میں نہ صرف فوجی فتوحات ہوئیں بلکہ عملی اصلاحات اور عدالتی نظام کی بنیاد بھی ڈالی گئی۔ ان کی خلافت میںبیت المقدس کا پُرامن فتح ہوا اور حضرت عمرؓ نے بنفسِ نفیس شہر میں داخل ہوکر مسجد اقصیٰ کی زیارت کی۔فارس، روم، عراق، شام، فلسطین اور مصر جیسے بڑے علاقے اسلامی قلمرو میں شامل ہوئے۔عدالت، پولیس، بیت المال، ڈاک، جیل، اور مردم شماری جیسے ادارے باقاعدہ قائم کیے گئے۔مسلمانوں کا ہجری کیلنڈر باقاعدہ طور پر حضرت عمرؓ کی خلافت میں متعارف کروایا گیا۔حضرت عمرؓ کے عدل و انصاف کی مثالیں آج بھی دنیا کے قانون دانوں کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔ ان کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے ’’دریا دجلہ کے کنارے اگر کوئی کتا بھی بھوکا مرجائے تو عمر سے اس کے بارے میں پوچھا جائے گا‘‘
۔مولاریاض احمد قادری حسامی نے کہا کہ حضرت عمرؓ نے ہمیشہ حق بات کہنے اور نافذ کرنے میں کسی کی پروا نہیں کی۔ یہی وجہ تھی کہ ان کی خلافت میں غیر مسلم رعایا بھی خود کو محفوظ سمجھتی تھی۔ حضرت عمرؓ کو 26 ذوالحجہ 23 ہجری کو فجر کی نماز کے دوران ایک مجوسی غلام ابو لولو فیروز نے خنجر مار کر زخمی کر دیا، جس کے باعث چند دن بعد آپؓ کا وصال ہوا۔ اپؓ کی تدفین روضہ رسول صلعم میں رسول اکرم صلعم اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پہلو میں ہوئی۔مولانا محمد ریاض احمد قادری حسامی نے موجودہ معاشرتی، سماجی اور عالمی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حضرت عمرؓ کی سیرت آج بھی مسلم حکمرانوں اور عوام کے لیے ایک مکمل نظامِ حیات فراہم کرتی ہے۔ ان کی شجاعت، دیانت، زہد، حلم، عدل ہمیں سکھاتا ہے کہ اگر ہم دین کے حقیقی اصولوں پر کاربند ہو جائیں تو امت دوبارہ اپنے کھوئے ہوئے وقار کو حاصل کر سکتی ہے۔
مولانا نے کہاکہ گزشتہ برس برطانیہ کی ایک غیرمسلم اسکالر ڈاکٹر کیتھرین ہیکٹ نے حضرت عمرؓ کی شخصیت کو اپنی تحقیقی کتاب میں ’’دنیا کا پہلا جدید منتظم حکمران‘‘ قرار دیا تھا۔ اسی طرح اقوامِ متحدہ کے ایک سیمینار میں بھی حضرت عمرؓ کے نظامِ عدل کو تاریخی حوالہ جات کے ساتھ سراہا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آپؓ کی سیرت آج بھی بین الاقوامی سطح پر ایک معیاری ماڈل سمجھی جاتی ہے۔ مولانا ریاض احمد حسامی نے آخر میں حضرت عمرؓ کی سیرت پر عمل کرنے، امت مسلمہ کے درمیان اتحاد، اصلاح اور عدل کے قیام کے لیے خصوصی دعائیں کیں۔ انہوں نے نوجوان نسل کو دعوت دی کہ وہ سوشل میڈیا کی بے راہ روی سے بچتے ہوئے صحابہ کرامؓ کی زندگیوں سے سبق حاصل کریں۔




English 





































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































































